گوہرِمقصود خود ملتا ہے، ہمت شرط ہے
مضطرب رہتا ہے ہر موتی ابھرنے کیلیئے
ٹی ۔ ۲۰ کرکٹ عالمی کپ ۲۰۰۹
گوہرِمقصود خود ملتا ہے، ہمت شرط ہے
مضطرب رہتا ہے ہر موتی ابھرنے کیلیئے
ٹی ۔ ۲۰ کرکٹ عالمی کپ ۲۰۰۹
Posted in مدنظر | Tags: کرکٹ, ٹی ۔ ۲۰, عالمی کپ ۲۰۰۹
تيرے نام سے جوڑا ہے اپنا نام
زندگي ميں کچھ اور کي چاہ نہيں
ہے ميري صبح اور شام تجھسے ہي
ميري منزل کي اور کوئي راہ نہيں
آسماں کي بلندي کو چھونا چاہتي ہوں
ساتھ تيرا ملے تو سفرِ راہ آساں ہو
پھر لاکھ کٹھنائيوں سے گزر ہو مرا
ہاتھ تيرا تھام لوں تو منزل نگاہ ہو
جس طرح ممکن ہو تعمیر چمن کرتے رہو
کام اپنا اے محبان وطن کرتے رہو
آندھیوں کا کیا بھروسہ، کیا بگولوں کا یقیں؟
روز اونچی اپنی دیوار چمن کرتے رہو
انتشار اک پیش خیمہ ہے زوال ملک کا
اتحاد قوم و ملت کا جتن کرتے رہو
پتی پتی پے چمن کی جان چھڑکو دوستو!
رات دن خدمات ارباب وطن کرتے رہو
انقلابِ محمدی کی روح جبروتشدد کی روح نہ تھی۔ آپ کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے ہاتھ میں کوڑا نہ تھا بلکہ یہ آپ ک اسؤہِ حسنہ کا اعجاز ہے کہ
ذہن بدل گئے
خیالات کی رو بدل گئی
نگاہ کا زاویہ بدل گیا
عادات و اطوار بدل گئے
رسم و رواج بدل گئے
حلال و حرام کے پیمانے
اور
جنگ و صلح کے انداز بدل گئے
لات و منات اور عزی کے پجاری
ایک خداکے سامنے جھک گئے
بت پرست، بت شکن بن گئے
راہزن، رہنما بن گئے
انسان قیدِ بندہ و آقا سے آزاد ہوا
آتش کدے بجھ گئے اور بیت اللھ آباد ہوا
عدل و احسان اور ایثار عام ہونے لگا
چادر اور چار دیواری کا احترام ہونے لگا
عورت کی عزت و شان بن گئی
اور
دنیا گہوارہِ امن و امان بن گئی
غرض کچھ اس ادا سے کی مریضوں کی مسیحائی
زمیں بدلی ، زماں بدلا ، جہاں نے زندگی پائی
Posted in مدنظر, مقالات, میلادالنبیۖ | Tags: مسیحائی, اسوہِ حسنہ
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے کس فصیح انداز میں اپنے طرز فکر اور کردار کی تصویر کھینچی ہے
“عرفان میرا سرمایہ ہے۔
عقل میرے دین کی اصل ہے۔
محبت میری بنیاد ہے۔
شوق میری سواری ہے۔
ذکر الٰہی میرا مونس ہے۔
اعتماد میرا خزانہ ہے۔
حزن میرا رفیق ہے۔
علم میرا ہتھیار ہے۔
صبر میرا لباس ہے۔
خدا کی رضا میری غنیمت ہے۔
عاجزی میرے لئے وجہ اعزاز ہے۔
زہد میرا پیشہ ہے۔
یقین میری طاقت ہے۔
صدق میرا سفارشی ہے۔
اطاعت میرا بچاؤ ہے۔
جہاد میرا کردار ہے
اور
میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے”
وہ ایک سجدہ جسے تو گران سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
سلام ہو حخرت ابراہیم علیہ سلام پر جو ہمارے لیۓ بیش بہا نعمت کی دعا کر گۓ
“ربنا وابعث فیھم رسولا منہم یتلوا علیہم ءایتک و یعلمھم الکتب والحکمۃ و یزکیہم ہ ( بقرۃ)129“
“اے ہمارے رب! ان (میری اولاد) میں پیغمبر مبعوث فرما، جو انہی میں سے ہو، انہیں تیری آیات پڑھ پڑھ کر سناۓ اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک صاف کرے۔”
چنانچہ
خلیل اللہ کی دعا کا ثمر
رسول بحر و بر
پیغمبراسود و احمر
خیرالبشر
نازش انسانیت
نگہبان آدمیت
پیکر جودوسخا
مصدرصبرورضا
باعث تخلیق ارض و سما
مصداق لولاک لما
ماہ عرب
مہر عجم
ایک مصلح
اور
معلم انقلاب
کی صورت میں
منثۂ شہود پر
ظہور پزیر ہوے۔
ہوئی پہلؤۓ آمنہ سے ہویدا
دعاۓ خلیل اور نوید مسیحا
Posted in مدنظر, مقالات, میلادالنبیۖ | Tags: میلادالنبیۖ, نوید مسیحا, دعاۓ خلیل, سلام
اے کاش
میں ہوا ہوتی ، آپ کے جسم کو چھو کر آپ کو اپنے ہونے کا احساس دلاتی ۔
آپ میری ہی سانسوں میں سانس لیتے اور آپ کے منہ کی خوشبو سے میں ہی مہک اٹھتی۔
میں کبھی آپ کے بس میں تو نہ ہوتی لیکن عمر اور زندگی کے ہر رنگ کو آپ کے ساتھ گزارتی۔
آپ کی خوشی میں آپ کو سکون دیتی اور آپ کے غم میں، سارا غم لے کر اڑ جاتی۔
میں نظر تو نہ آتی لیکن آپ مجھے محسوس کرتے۔
میں کسی بھی انداز میں آپ میں سرائیت کر جاتی۔
آپ کے آنسوؤں کو سکھاتی، آپ کی آنکھوں کو سکوں دیتی۔
کاش میں ہوا ہی ہوتی،
یھ سال ہو غلبۂ اسلام کا
آؤ ہم سب نیک ہو کر دیکھ لیں
منتشر رہ کر تو کچھ نہیں پایا
آؤ ہم اب ایک ہو کر دیکھ لیں
کاش ميں تيرا سايہ ہوتی
تيرے ساتھ نہ سہی
تيرے پيچھے پيچھے
دبے قدموں سے آتی رہتی
تيرے جسم کے ہرہر حصے سے
جڑی رہتی
تيرے سکوں کےلۓ خود کو
مٹا بھی ديتی
ليکن
تيرے ہی اندر سرائت رہتی
ميری اپنی پہچان نہ ہوتی
پر تيرے ہی نام سے جانی جاتی
ميرے وجود ميں کوئ سانس نہ ہوتی
مگر تيرے ہی سانس ميں سانس ليتی
اپنی قسمت کا کچھ پتا نہ ہوتا
پر تيری قسمت پر ناز کرتی
کاش ميں تيرا سايہ ہی ہوتـیُُٰ
Posted in شعرا